
کسی بھی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اُس جانور کو بھی لگیں گے
میری ذات پر کسی نے سوال اٹھانا ہے ہے تو پھر وہ یہ یاد بھی رکھے
کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر کسی پر پتھراؤ نہیں ہوتا
مجھے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ میں نے پرویز رشید صاحب سے رولنگ مانگی لیکن انھوں نے انڑرپشن نہیں کی پھر بعد میں معذرت کا ڈرامہ رچایا گیا جو کہتا ہے کہ معذرت قبول کرو تو میں یہ کہتی ہوں کہ اپنی بہن بیوی بیٹی کو بٹھا کے میری جگہ اُن کے گھر کی عورت ہوتی تو کیا وہ معذرت قبول کرتے
پہلے تو راوی کے پیٹ میں سوسائٹیاں بنی سندھو دریا کے پیٹ میں ہم سوسائٹیاں نہیں بنا رہے تھے
کسی کا کوئی مینڈیٹ نہیں کے وہ سندھو دریا کے پیٹ کو تاڑے یا سندھ کی تقسیم کی بات کرے
کوئی سمجھتا ہے کہ ہم چُوری کھانے والے مٹھوں ہیں تو ہم چُوری کھانے والے مٹھوں نہیں
پلوشہ خان

















